Thursday, 1 April 2021

یوں تو دیکھی ہیں بے شمار آنکھیں

 یوں تو دیکھی ہیں بے شُمار آنکھیں

وہ مگر تیری پُر خُمار آنکھیں

غم کی لہریں تھیں موجزن ان میں

میں نے دیکھی ہیں اشکبار آنکھیں

تیرے آنے کی آس ہے اب بھی

راہ تکتی ہیں بار بار آنکھیں

من کے اندر اگر اُجالا ہو

دیکھ لیتی ہیں آر پار آنکھیں

خوبصورت لگے گی یہ دنیا

اپنے باطن کی تُو سنوار آنکھیں


عمران شناور

No comments:

Post a Comment