مڑنا چاہوں بھی تو اب مڑنے کی کوئی راہ نہیں ہے
ویسے بھی درد کی اندھی راتوں میں
خوابوں کی برساتوں میں
بچی ہوئی کچھ روشنی میرے جسم پہ عقرب کے انداز میں چلنے لگتی ہے
جیسے نس نس جلنے لگتی ہے
درد سے جان نکلنے لگتی ہے
شہر کی ایک گلی میں اب بھی اک سایہ آتا ہے نظر
دیر ہوئی اک موسمِ گل کی باتیں ہیں
یادوں کی سوغاتیں ہیں
اک سہ پہر کے ڈھلتے سائے
دن بھر خالی رہنے والے اپنے گھر کی
چابی گردن میں لٹکائے
اپنی دھن میں چلتا جائے
پاس ہی کسی حویلی میں اک بینڈ مسلسل شور مچائے
موسیقی سے قدم ملائے
سر کو جھکائے
چلتا جائے
کون تھا وہ
وہ لڑکا میں تھا
کوئی سنگی کوئی ساتھی جس کے پاس نہ تھا
اس کے علاوہ اس کو کچھ احساس نہ تھا
شام ڈھلے چیزوں کے سائے کتنے لمبے ہو جاتے ہیں
سن اکسٹھ تھا، مئی کی چھ تاریخ تھی اس دن
شام کے پانج بجے تھے اور میں
سر کو جھکائے
موسیقی سے قدم ملائے
چابی گردن میں لٹکائے
چلتا ہی جاتا تھا
اب بھی ان قدموں کی آہٹ مجھے سنائی دے جاتی ہے
مجھ کو تنہا چھوڑ کے جاتی عمر دکھائی دے جاتی ہے
جمشید مسرور
No comments:
Post a Comment