Thursday, 1 April 2021

شدت مرض ہے کام کوئی نہ دوا آتی ہے

 شدتِ مرض ہے، کام کوئی نہ دوا آتی ہے

ایسا لگتا ہے کہ اب بُلاوے کی صدا آتی ہے

جب بھی آتا ہے مجھ پہ مُشکل وقت کوئی

کام میرے میری ماں کی دُعا آتی ہے

پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ شاید وہ آئے ہوں

جب کبھی مجھ کو آہٹ کی صدا آتی ہے

لاکھ کوشش بھی کروں تو بھُلا نہیں پاتا اس کو

ہر گھڑی یاد اُس کی مجھے بخدا آتی ہے

ایسا لگتا ہےلے کے آئی ہو جیسے پیغام کوئی

اس کے شہر سے ہو کر جو ٹھنڈی ہوا آتی ہے

بسترِ مرگ پہ پڑا ہوں کب سے بے ہوش

جان جاتی ہے کہ قریبِ رگِ جاں آتی ہے

بس مسافؔر اب اس بات کا ہے انتظار ہمیں

وہ آتے ہیں پہلے ملنے، کہ قضا آتی ہے


آفتاب مسافر

No comments:

Post a Comment