پردے میں حُسنِ یار کی مرضی نہیں چلی
لگتا ہے رازدار کی مرضی نہیں چلی
بڑھتا رہا فشار بھی یادوں کے ساتھ ساتھ
دھڑکن پہ شاخسار کی مرضی نہیں چلی
کُندن ہوئے ہیں آگ بھی اپنی لگا کے ہم
ہم پر کسی سُنار کی مرضی نہیں چلی
دامِ نِگاہِ یار میں ایسا فریب تھا
پھنستے ہوئے شِکار کی مرضی نہیں چلی
آ تو گئے قطار سے دنیا میں سب میاں
جاتے ہوئے قطار کی مرضی نہیں چلی
دنیا نے جس بھی رنگ میں ڈھالا یہ ڈھل گیا
رنگوں پہ شاہکار کی مرضی نہیں چلی
آیا تھا اک گمان سے عاطف میں چاک پر
پھر یوں کہ خاکسار کی مرضی نہیں چلی
عاطف جاوید عاطف
No comments:
Post a Comment