گر ہم نے کِیا جرم، سزا کیوں نہیں دیتے
کیوں ہم پہ مہرباں ہو بتا کیوں نہیں دیتے
ہوں معاملاتِ ہجر، یا کہ وصال ہوں
اے نُکتہ دانِ شہر بھُلا کیوں نہیں دیتے
ہم کہ ٹھہرے اجنبی دیارِ غیر میں
پہچان کر بھی ہم کو سزا کیوں نہیں دیتے
آ، دیکھ تیرے بعد جنوں میں دلِ مُضطر
کس حال میں ہے اس کو دوا کیوں نہیں دیتے
گزری ہے ہم پہ جو بھی، بس گزر گئی
رنجش کو اپنے دل سے مٹا کیوں نہیں دیتے
ہم کہ مریضِ عشق اب تِرے رو برو
محرم ہوں کہ مجرم شفا کیوں نہیں دیتے
حد سے بڑھا، جنوں آیا جو سامنے
اے دُشمنِ جاں! حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے
سعیدہ مظفر
No comments:
Post a Comment