Thursday, 1 July 2021

وہ میرا مدعا سن کر ذرا سا مسکرایا اور فرمایا نہیں سمجھا

 نہیں سمجھا


لہو شمشیر پہ چمکا، نہیں چمکا

وہ میرا مُدعا سُن کر

ذرا سا مسکرایا

اور فرمایا؛ نہیں سمجھا

سو میں نے بھی

غنیمت جان کے

سارے پھپولے

داغ دل کے

جالے، والے

اس سے کہہ ڈالے

یہ ذائقہ کسیلا ہے

زباں پر آ گئی نا تھرتھراہٹ

طبیعت میں

حزیمت سی ہوئی محسوس

پھر آخر

یہ طے پایا

اگرچہ

رات کا پچھلا پہر ہے

اور پَو پھٹنے میں

ابھی کچھ وقت باقی ہے

مناسب تھا

میں اس کے در سے اٹھ کر لوٹ آیا

انا بھی کوئی شے ہوتی ہے آخر

نیا دن ہے پرانے راستے پر

اک نئی الجھن پڑی ہے

میں اکثر سوچتا ہوں

کیا میرے غم سے تِری دنیا بڑی ہے

اسی الجھن میں کٹ جاتا ہے سارا دن

نجانے میرے بارے میں

وہ کیا کچھ سوچتا ہو گا

وہ میرا مُدعا سن کر

ذرا سا مسکرایا

اور فرمایا، نہیں سمجھا


سلیم شہزاد

No comments:

Post a Comment