رنگ تحریر میں جو آیا ہے
حسرتوں کا لہو ملایا ہے
بخت قسمت سے مل گیا ہے تجھے
میں نے تو ہاتھ سے کمایا ہے
صرف تصویر ہی نہیں کھینچی
دُکھ سے اک پردہ بھی ہٹایا ہے
اب وصولی پہ چونکنا کیسا
تیری کرنی کا ہی بقایا ہے
کچھ پرندوں کو دیکھ کر ہنستا
میں نے جنگل میں گھر بنایا ہے
وقت بدلا نا پھیرنے سے گھڑی
میں نے کئی بار آزمایا ہے
دل کی دیوار گر نہیں پائی
ایک دستک ابھی بقایا ہے
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment