Thursday, 1 July 2021

رنگ تحریر میں جو آیا ہے

 رنگ تحریر میں جو آیا ہے

حسرتوں کا لہو ملایا ہے

بخت قسمت سے مل گیا ہے تجھے

میں نے تو ہاتھ سے کمایا ہے

صرف تصویر ہی نہیں کھینچی

دُکھ سے اک پردہ بھی ہٹایا ہے

اب وصولی پہ چونکنا کیسا

تیری کرنی کا ہی بقایا ہے

کچھ پرندوں کو دیکھ کر ہنستا

میں نے جنگل میں گھر بنایا ہے

وقت بدلا نا پھیرنے سے گھڑی

میں نے کئی بار آزمایا ہے

دل کی دیوار گر نہیں پائی

ایک دستک ابھی بقایا ہے


مقدس ملک

No comments:

Post a Comment