Wednesday, 1 December 2021

ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں

 ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں

کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں

ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی

صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں

گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں

روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں

نفرت ہی سہی رسم نبھانے کے لیے آ

 نفرت ہی سہی رسم نبھانے کے لیے آ

آ، آتش غم پھر سے جلانے کے لیے آ

پڑ جائے نہ جانے سے تِرے قصۂ غم سرد

احساس کی شدت کو بڑھانے کے لیے آ

گزرے ہوئے لمحوں نے حراست میں لیا ہے

تاریکیِ زنداں سے چھڑانے کے لیے آ

ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا

 ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا

سو پھر سے دشت کو جانے کا ہے ارادہ مِرا

عجیب شاخ تھی صندل کی مجھ سے کہتی تھی

بجائے سرمہ لگایا کرو بُرادہ مرا

ضرورتوں کی کفالت اسی کے ذمہ ہے

جسے خیال ہے مجھ سے کہیں زیادہ مرا

وقت کی رفتار کو پرکھا کرو

 وقت کی رفتار کو پرکھا کرو

بند ہر جھگڑے کا دروازہ کرو

منہ سے نکلی بات کی ہو گی پکڑ

آگے پیچھے سوچ کر بولا کرو

صرف غیروں کی زبانیں سیکھ کر

مشورہ ہے خود کو مت گونگا کرو

دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے

 زمین میلی ہے یہ آسمان میلا ہے

دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے

مشاورت سے تِری بام و در سنورتے تھے

جو تُو نہیں ہے تو سارا مکان میلا ہے

دل و نگاہ کی پاکیزگی کے سوتوں پہ

جمی ہے گرد سو سارا یہ گیان میلا ہے

سلام اس پر کہ کعبہ میں ولادت کا شرف پایا

 سلام بر مولود کعبہ مولا علیؑ شیر خدا


سلام اس پر کہ کعبہ میں ولادت کا شرف پایا

جو بچپن ہی سے آغوشِ محمدﷺ میں چلا آیا

سلام اس پر جو شہزادہ ہے یوم ذوالعشیرہ کا

وہی اس وقت سارے پتھروں میں ایک ہیرا تھا

شبِ ہجرت نبیﷺ کے پاک بستر پر وہ سویا تھا

نبیؐ کا عشق جس نے اپنی رگ رگ میں سمویا تھا

تصویر حیا پیکر ایمان ہیں عثمان

 عارفانہ کلام منقبت بر حضرت عثمانؓ ذوالنورین


تصویرِ حیا، پیکرِ ایمان ہیں عثمانؓ

کردار میں اللہ کی بُرہان ہیں عثمان

حقا کہ ہے عثمان کو قرآن سے محبت

شک اس میں نہیں، جامعِ قرآن ہیں عثمان

جنت کی بشارت ہے ملی جن کو نبیؐ سے

یاران شہِ دیںﷺ میں وہ ذیشان ہیں عثمان