ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں
کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں
ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی
صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں
گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں
روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں
ذکر آتا ہے تیرا ہر اک بات میں
کیسے زندہ رہوں ایسے حالات میں
ایک صفحے پہ سارے نہ لکھ پاؤں گی
صدمے جتنے سہے ہجر کی رات میں
گھر کے سب کام یوں ہی پڑے رہتے ہیں
روٹی جل جاتی ہے اب خیالات میں
نفرت ہی سہی رسم نبھانے کے لیے آ
آ، آتش غم پھر سے جلانے کے لیے آ
پڑ جائے نہ جانے سے تِرے قصۂ غم سرد
احساس کی شدت کو بڑھانے کے لیے آ
گزرے ہوئے لمحوں نے حراست میں لیا ہے
تاریکیِ زنداں سے چھڑانے کے لیے آ
ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا
سو پھر سے دشت کو جانے کا ہے ارادہ مِرا
عجیب شاخ تھی صندل کی مجھ سے کہتی تھی
بجائے سرمہ لگایا کرو بُرادہ مرا
ضرورتوں کی کفالت اسی کے ذمہ ہے
جسے خیال ہے مجھ سے کہیں زیادہ مرا
وقت کی رفتار کو پرکھا کرو
بند ہر جھگڑے کا دروازہ کرو
منہ سے نکلی بات کی ہو گی پکڑ
آگے پیچھے سوچ کر بولا کرو
صرف غیروں کی زبانیں سیکھ کر
مشورہ ہے خود کو مت گونگا کرو
زمین میلی ہے یہ آسمان میلا ہے
دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے
مشاورت سے تِری بام و در سنورتے تھے
جو تُو نہیں ہے تو سارا مکان میلا ہے
دل و نگاہ کی پاکیزگی کے سوتوں پہ
جمی ہے گرد سو سارا یہ گیان میلا ہے
سلام بر مولود کعبہ مولا علیؑ شیر خدا
سلام اس پر کہ کعبہ میں ولادت کا شرف پایا
جو بچپن ہی سے آغوشِ محمدﷺ میں چلا آیا
سلام اس پر جو شہزادہ ہے یوم ذوالعشیرہ کا
وہی اس وقت سارے پتھروں میں ایک ہیرا تھا
شبِ ہجرت نبیﷺ کے پاک بستر پر وہ سویا تھا
نبیؐ کا عشق جس نے اپنی رگ رگ میں سمویا تھا
عارفانہ کلام منقبت بر حضرت عثمانؓ ذوالنورین
تصویرِ حیا، پیکرِ ایمان ہیں عثمانؓ
کردار میں اللہ کی بُرہان ہیں عثمان
حقا کہ ہے عثمان کو قرآن سے محبت
شک اس میں نہیں، جامعِ قرآن ہیں عثمان
جنت کی بشارت ہے ملی جن کو نبیؐ سے
یاران شہِ دیںﷺ میں وہ ذیشان ہیں عثمان