Sunday, 29 June 2014

نہ بنے آنکھ کا تارا یہ ضروری تو نہیں

نہ بنے آنکھ کا تارا، یہ ضروری تو نہیں
ہو کوئی چاند سا پیارا، یہ ضروری تو نہیں
فائدہ ایک ہو سب کا، یہ تو ہو سکتا ہے
ایک جیسا ہو خسارہ، یہ ضروری تو نہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ پردہ کوئی پردہ ہی نہ ہو
اور نظارہ ہو نظارہ، یہ ضروری تو نہیں

راجا ہے کوئی اس میں نہ رانی ہے مرے دوست

راجا ہے کوئی اس میں نہ رانی ہے مِرے دوست
اپنی تو کوئی اور کہانی ہے مرے دوست
تم ساتھ ہو میرے تو کہا میں نے ہے، ورنہ
کب شام یہ اتنی بھی سہانی ہے مرے دوست
میں سامنے تیرے ہوں اِدھر دیکھ تُو مجھ کو
تصویر تو البم میں پرانی ہے مرے دوست

Wednesday, 25 June 2014

وہ بت گرفتہ دلوں کا نصیب ہو کر بھی

وہ بُت گرفتہ دلوں کا نصیب ہو کر بھی
کسے ہُوا ہے میسر قریب ہو کر بھی
مِلا ہے یار بھی ہم کو سکونِ دل جیسا
نصیب ہو نہیں سکتا نصیب ہو کر بھی
غروبِ شب ہے کہ خود آگہی ستاروں کی
بجھے بجھے ہیں سحر کے نقیب ہو کر بھی

چل رہا تھا کئی زنجیروں سے وابستہ میں

چل رہا تھا کئی زنجیروں سے وابستہ میں
چھوڑ آیا ہوں تِری چاہ میں ہر رستہ میں
کر دیا عشق نے مستانۂ پرواز مجھے
اُڑ رہا ہوں تِرے اطراف میں پر بستہ میں
گُل بھی اظہارِ محبت کے لیے کم نکلے
چار شعروں کا اٹھا لایا ہوں گُلدستہ میں

Tuesday, 24 June 2014

سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات

سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات
بندہ ٹھوکر کھا جاتا ہے بعض اوقات
گھر کی چھت پر رم جھم بارش، جلتی دھوپ
یہ موسم بھی آ جاتا ہے بعض اوقات
اچھی قسمت، اچھا موسم، اچھے لوگ
پھر بھی دل گھبرا جاتا ہے بعض اوقات

Monday, 23 June 2014

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومئے

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کُو میں گھومیے
پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے
شاید اک بھولی تمنا، مٹتے مٹتے جی اٹھے
اور ابھی اس جلوہ زار رنگ و بُو میں گھومیے
روح کے در بستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھ
ہمہماتی محفلوں کی ہاؤ ہُو میں گھومیے

جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہو گا

 جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہو گا

یہ کون جانتا ہے کون کس جگہ ہو گا

تُو میرے سامنے بیٹھا ہے اور میں سوچتا ہوں

کہ آئے لمحوں میں جینا بھی اک سزا ہو گا

ہم اپنے اپنے بکھیڑوں میں پھنس چکے ہوں گے

نہ تجھ کو میرا نہ مجھ کو تِرا پتا ہو گا

یہی جگہ جہاں ہم آج مل کے بیٹھے ہیں