یہ عطا بھی اے ساقی واہ کیا نرالی ہے
ایک جام چھلکا ہے، ایک جام خالی ہے
زخم پتہ پتہ ہے، درد ڈالی ڈالی ہے
اے میرے چمن آخر کون تیرا مالی ہے
پھر ترے حسین وعدے یاد آ گئے شاید
کیا مِری وفاؤں کا اب لہو نہیں ملتا
تم اپنے ہاتھوں میں کیوں حنا لگا لی ہے
اے مِری غزل تیرے ناز کون اٹھائے گا
اب نہ کوئی غالبؔ ہے اب نہ کوئی حالیؔ ہے
حرف حرف ہیرا ہے، لفظ لفظ موتی ہے
ان حسین لوگوں کی بات ہی نرالی ہے
پاکباز رندوں کو اور ہم کہاں ڈھونڈیں
مسجدیں بھی سونی ہیں میکدہ بھی خالی ہے
رازؔ یہ غزل اپنی اک حسیں صدقہ ہے
شعر بھی انوکھے ہیں، طرز بھی نرالی ہے
راز الہ آبادی
No comments:
Post a Comment