ہائے میں نے توبہ کی تو بھی کس زمانے میں
چار دن ہی باقی تھے جب بہار آنے میں
آج ان کی محفل میں ذکر تھا وفاؤں کا
ہم ہی باوفا نکلے بے وفا زمانے میں
مسجدِ شکستہ تو چار دن میں بن جائے
اب نہ شرابی ہیں اب نہ وہ شرابیں ہیں
لوگ خون پیتے ہیں اب شراب خانے میں
صرف ایک بار اس نے دل کا حال پوچھا تھا
عمر کٹ گئی اپنی حالِ دل سنانے میں
راز الہ آبادی
No comments:
Post a Comment