Monday, 4 April 2016

تو جتنا ہو سکے جلدی چلا جا

تُو جتنا ہو سکے جلدی، چلا جا
نہیں جی چاہتا، پھر بھی چلا جا
چلا جا یار! یہ بہرے ہیں سارے
کوئی سنتا نہیں تیری،۔ چلا جا
وہ تنہا ہے اور اس تنہا سے ملنے
کوئی جاتا نہیں،۔ تُو ہی چلا جا
محبّت سچ ہے اور اس سچ کی پوجا
یہاں بالکل نہیں ہوتی،۔ چلا جا
قیامت آنے والی ہے یہاں پر
قیامت روک لے، یعنی چلا جا
کسی دریا، کسی صحرا کی جانب
جدھر بھی ہو تِری مرضی، چلا جا
یہاں آنکھوں کو دِیمک لگ گئی ہے
اٹھا خوابوں کی یہ گٹھڑی، چلا جا
بہت مشہور ہے تُو سرکشی میں
یہ مشہوری نہیں اچھی، چلا جا
پیمبر تک نہیں چھوڑے جنہوں نے
وہ دیکھیں گے تِری ہستی، چلا جا
کوئی شاعر نہیں رہتا یہاں پر
چلا جا او مِرے بھائی!،۔ چلا جا
خدا کو چاہئے خالص ذبیحہ
تُو دے کے سر کی قربانی چلا جا
کسی سے کچھ بھی کہنے کی علی اب
ضرورت ہی نہیں کوئی،۔ چلا جا

علی زریون

No comments:

Post a Comment