Saturday, 2 April 2016

خزینہ راہ میں یاسر پڑا نہیں ملتا

خزِینہ راہ میں یاسر پڑا نہیں ملتا
پسینہ بہنے سے پہلے صِلہ نہیں ملتا
یہاں پہ حصہ سبھی کا بقدرِ ہمت ہے
تلاش کرنے پہ آؤ تو کیا نہیں ملتا
رُوئے زمین پہ ایسا بھی منطقہ ہے کوئی
جہاں بھلائی کا بدلہ برا نہیں ملتا
اسی پہ خوش ہیں مِرے شہر کے مکین بہت
کہ اب کسی کو کسی سے گِلہ نہیں ملتا
ادھر سے روز گزرتا ہوں دن ڈھلے یاسر
مگر وہ سبز دریچہ کھُلا نہیں ملتا

خالد اقبال یاسر 

No comments:

Post a Comment