Tuesday, 12 April 2016

اس نے ہم کو گمان میں رکھا

اس نے ہم کو گمان میں رکھا
اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا
کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے
حشر اس کی اٹھان میں رکھا
جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب
ایک چوب، اک چٹان میں رکھا
لمحے لمحے کی اپنی تھی اک شان
تُو نے ہی ایک شان میں رکھا
ہم نے پیہم قبول و رد کر کے
اس کو اک امتحان میں رکھا
تم تو اس یاد کی امان میں ہو
اس کو کس کی امان میں رکھا
اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا

 جون ایلیا

No comments:

Post a Comment