کسی گماں، کسی امکان پر تو لکھوں گا
میں رحلِ شب پہ بھی نام سحر تو لکھوں گا
فگار انگلیاں ہو یا پھٹی ہوئی آنکھیں
میں لکھنے والا ہوں تازہ خبر تو لکھوں گا
کہانیوں سے میں آنکھیں چراؤں گا کب تک
سلگ رہاہے تہِ فکر جو خیال اسے
میں آگ کر نہیں پایا، شرر تو لکھوں گا
جو میرے قلب سے ابھرا، نظر میں ٹھہرا ہے
یہ ماہتاب کسی چرخ پر تو لکھوں گا
ابھی تو دشتِ نظر میں بھٹکتا پھرتا ہوں
کبھی ملی کوئی اپنی خبر تو لکھوں گا
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment