رات گئے جب گھر میں آئیں
دیواروں سے دل بہلائیں
تیرے جیسا کون ملے گا
سوچ رہے ہیں گھر لوٹ آئیں
جیسے تیسے دن کٹتا ہے
ساتھ کہاں تک دیں گے آخر
ماؤں کی معصوم دعائیں
کوئی ہمیں بہکا کر خوش ہو
اور کسی کو ہم بہکائیں
سورج ، دفتر، شور، مکان
راتیں دھیما ساز بجائیں
آشفتہ چنگیزی
No comments:
Post a Comment