Monday, 11 April 2016

رات گئے جب گھر میں آئیں

رات گئے جب گھر میں آئیں
دیواروں سے دل بہلائیں
تیرے جیسا کون ملے گا
سوچ رہے ہیں گھر لوٹ آئیں
جیسے تیسے دن کٹتا ہے
خواب پرانے منظر لائیں
ساتھ کہاں تک دیں گے آخر
ماؤں کی معصوم دعائیں
کوئی ہمیں بہکا کر خوش ہو
اور کسی کو ہم بہکائیں
سورج ، دفتر، شور، مکان
راتیں دھیما ساز بجائیں

​آشفتہ چنگیزی

No comments:

Post a Comment