Sunday, 10 April 2016

تھکن سمیٹ چکے ہیں غبار باندھ لیا

تھکن سمیٹ چکے ہیں غبار باندھ لیا
تمام رختِ سفر ایک بار باندھ لیا
درخت دیکھ رہے ہیں مسافروں کی طرف
یہ کس نے دھوپ کے آگے حصار باندھ لیا
طویل ہوتی ہوئی زندگی مجھے بھی دیکھ
مِرے بدن نے یہ کیا اختصار باندھ لیا
ابھی میں تم سے جدا بھی نہیں ہوں پوری طرح
ابھی سے تم نے مِرا انتظار باندھ لیا
کوئی چراغ جلے گا نہ روشنی ہو گی
ہوا نے عہد اگر میرے یار باندھ لیا

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment