Monday, 11 April 2016

شب فراق میں اک ہاتھ دل کے پاس آیا

شبِ فراق میں اک ہاتھ دل کے پاس آیا
ہجومِ درد میں یہ کون دل کے پاس آیا
پھر ایک وقت وہ آیا کہ جب مِرے دل کو
غمِ جہاں بھی تِرے غم کی طرح راس آیا
رُتوں نے جیسے دلوں سے مطابقت کر لی 
سکوں کی فصل کٹی،۔ موسمِ ہراس آیا
نکل چکا جو فضاؤں میں اس کا زعمِ دروں 
غبارا لوٹ کے اپنی زمیں کے پاس آیا
وہیں کہیں مِری ساری انا تمام ہوئی
جب اسکے حکم میں اک رنگِ التماس آیا
وضاحتوں کے سبھی لفظ چشمِ تر کو ملے
اک آدھ حرف لبِ کم سخن کے پاس آیا

سعود عثمانی

No comments:

Post a Comment