شبِ فراق میں اک ہاتھ دل کے پاس آیا
ہجومِ درد میں یہ کون دل کے پاس آیا
پھر ایک وقت وہ آیا کہ جب مِرے دل کو
غمِ جہاں بھی تِرے غم کی طرح راس آیا
رُتوں نے جیسے دلوں سے مطابقت کر لی
نکل چکا جو فضاؤں میں اس کا زعمِ دروں
غبارا لوٹ کے اپنی زمیں کے پاس آیا
وہیں کہیں مِری ساری انا تمام ہوئی
جب اسکے حکم میں اک رنگِ التماس آیا
وضاحتوں کے سبھی لفظ چشمِ تر کو ملے
اک آدھ حرف لبِ کم سخن کے پاس آیا
سعود عثمانی
No comments:
Post a Comment