کس کا جلوہ نظر آیا مجھ کو
آپ میں دل نے نہ پایا مجھ کو
لب و حسنِ نمکیں کے آگے
نمک و قند نہ بھایا مجھ کو
اے مِرے ابرِ کرم ایک نظر
جب اُٹھا پردۂ غفلت دل سے
ہر جگہ تُو نظر آیا مجھ کو
پردہ کھل جائے گا محشر میں مِرا
گر نہ دامن میں چھپایا مجھ کو
کیوں کھلی رہتی ہے چشمِ مشتاق
کون ایسا نظر آیا مجھ کو
کیا کہوں کیسی وہ صورت تھی حسنؔ
جس نے دیوانہ بنایا مجھ کو
حسن رضا بریلوی
No comments:
Post a Comment