Saturday, 9 April 2016

روز و شب کا گوشوارہ ہے ہمارا کچھ نہیں

روز و شب کا گوشوارہ ہے ہمارا کچھ نہیں 
جس جگہ تُو نے اتارا ہے ہمارا کچھ نہیں
گر میانِ روز و شب الجھا دیا اس نے ہمیں 
اس میں بھی اس کا خسارہ ہے ہمارا کچھ نہیں
یہ من و تو کا تکاثر یہ جہانِ رنگ و بو 
یہ کسی نے روپ دھارا ہے ہمارا کچھ نہیں
یہ جو سر پر دھوپ ہے پیچھے کسی کا روپ ہے
جس کی خاطر ابر پارہ ہے ہمارا کچھ نہیں
اس تلاطم تک روانی ہے، کہانی ہے فقط
اس سے کچھ آگے کنارہ ہے ہمارا کچھ نہیں
خاک پر بھی نام اپنا تھا سو ہم گمنام ہیں
آسماں پر بھی ستارہ ہے ہمارا کچھ نہیں
وہ کسی کی شب گزاری تھی کسی کی شام تھی
یہ کسی کا دن گزارا ہے ہمارا کچھ نہیں
ٹوٹنے سے روک لینا، پیڑ کے بس میں کہاں
گرتے پتوں میں اشارہ ہے، ہمارا کچھ نہیں
یوں تو وہ بھی تھا ہمارا جو سراسر وہم تھا 
یوں تو یہ سب کچھ ہمارا ہے ہمارا کچھ نہیں

اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment