Saturday, 24 December 2016

بے تابی جذبات میں بھونرا نہ بنے ہم

بے تابئ جذبات میں بھونرا نہ بنے ہم
اس پھول سے اس پھول پر اڑ کر نہ گئے ہم
بیٹھے نہ رہے جام بکف، بزمِ طرب میں
جب ظلمتِ شب آئی، تو اک شمع بنے ہم
اے خاکِ وطن! تُو نے ہمیں جب بھی پکارا
سر اپنا ہتھیلی پہ لیے آگے بڑھے ہم
ٹوٹا نہ کبھی حوصلہ، ڈوبا نہ کبھی دل
حالات جب الجھے تو پریشاں نہ ہوۓ ہم
زلف و لب و رخسار کا سودا نہ سمایا
منزل کی قسم، طالبِ منزل ہی رہے ہم
جاگے ہوۓ انساں کو تھپک کر جو سلا دے
وہ فلسفۂ خوابِ گراں سن نہ سکے ہم

اویس احمد دوراں

No comments:

Post a Comment