گاؤں کی دھانی فضا میں تری پائل بولے
دور شیشم کے ہرے پیڑ پہ کوئل بولے
کوئی البیلا یہاں رات ڈھلے آئے گا
جانے کیوں آج یہ رہ رہ کے مِرا دل بولے
بھولے بھالے مِرے بے چین مسافر! اِدھر آ
عشق ظالم ہے بہت نام نہ لیجئے اس کا
دل کو خود قتل کرے حسن کو قاتل بولے
اکثر آتی ہے مِرے کانوں میں پُردرد صدا
جیسے زنداں کی خموشی میں سلاسل بولے
بھید اس کا نہیں معلوم کسی کو اے دل
کوئی رستہ کہے اس کو کوئی منزل بولے
مدعی عقل کا دوراؔں بھی بنا ہے کیا خوب
عین منجدھار کو جو آدمی ساحل بولے
اویس احمد دوراں
No comments:
Post a Comment