Saturday, 24 December 2016

زندگی کیسے نظر آئے نہ بسمل کی سی

زندگی کیسے نظر آۓ نہ بسمل کی سی
ہو گئی راہِ وفا کوچۂ قاتل کی سی
موسمِ گل کے ترانے نہیں سننے دیتی
ایک آواز کہ ہے شورِ سلاسل کی سی
آج کس میں ہے یہ ہمت کہ گلستاں میں رہے
باغبانوں کی ادا ہو گئی قاتل کی سی
کیا خبر یہ کسی فریاد کی لے ہے کہ غزل
یا صدا ہے کسی گم گشتۂ منزل کی سی
دل کو تھامے ہوئے پھرتے ہیں بہر سو دوراؔں
شاید آج ان میں تڑپ ہے کسی بسمل کی سی

اویس احمد دوراں

No comments:

Post a Comment