زندگی کیسے نظر آۓ نہ بسمل کی سی
ہو گئی راہِ وفا کوچۂ قاتل کی سی
موسمِ گل کے ترانے نہیں سننے دیتی
ایک آواز کہ ہے شورِ سلاسل کی سی
آج کس میں ہے یہ ہمت کہ گلستاں میں رہے
کیا خبر یہ کسی فریاد کی لے ہے کہ غزل
یا صدا ہے کسی گم گشتۂ منزل کی سی
دل کو تھامے ہوئے پھرتے ہیں بہر سو دوراؔں
شاید آج ان میں تڑپ ہے کسی بسمل کی سی
اویس احمد دوراں
No comments:
Post a Comment