اب ایسا بھی نہیں خود سے محبت ہی نہیں ہے
کہیں مصروف ہوں اتنا کہ فرصت ہی نہیں ہے
تجھے پہچان کم ہے اس لیے بھی روشنی کی
تِرے ذمے چراغوں کی کفالت ہی نہیں ہے
میں جس میں ہوں مجھے خود سے زیادہ چاہتا ہے
تمہارے بعد کتنے پھول شاخوں پر رہیں گے
شجر کے پاس اب اس کی ضمانت ہی نہیں ہے
کسی نے اس طرح بے ربط کر کے رکھ دیا ہے
مِرے جذبات اور چہرے میں نسبت ہی نہیں ہے
میں بے حِس بن کے انگاروں پہ چلتا جا رہا ہوں
مجھے محسوس کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے
قناعت کر مِری آنکھوں پہ اے خوابِ محبت
زمانے کی نظر میں تیری وقعت ہی نہیں ہے
یہ جتنا فائدہ حاصل ہے بربادی سے ہم کو
ہمیں آباد ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے
ہے اس کے حکم کے تابع یہ شہرِ جاں ہمارا
جسے آبادیوں سے کوئی رغبت ہی نہیں ہے
جسے درکار ہو لے جائے آ کر سر ہمارا
جہاں ہم ہیں وہاں اسکی ضرورت ہی نہیں ہے
یہ میں جو اپنی آنکھیں دان کرنا چاہتا ہوں
مِرے حصے کی دنیا خوبصورت ہی نہیں ہے
لڑا ہے اس لیے بھی معرکۂ عشق میں نے
یہ واحد جنگ ہے جس میں ہزیمت ہی نہیں ہے
پرکھتے ہو سجا کر کیا مِرے چہرے پہ آنکھیں
میں صحرا ہوں مجھے رونے کی عادت ہی نہیں ہے
کبیؔر اس کے بھروسے پر میں آدھا رہ گیا ہوں
وہ سچ کہتا ہے میری سوچ مثبت ہی نہیں ہے
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment