پلک سے روح تلک سوگوار بیٹھا ہوں
میں صبر و شکر کی خلعت اتار بیٹھا ہوں
اور اب تو خاک سے باہر ہیں کونپلیں میری
جو وقت مجھ پہ کڑا تھا، گزار بیٹھا ہوں
وہ طاقِ دل سے ہو یا طاقِ زندگانی سے
نجانے کس لیے میں نے سنبھال رکھا ہے
وہ حوصلہ جو مصیبت میں ہار بیٹھا ہوں
مجھے اندھیروں نے محصور کر لیا ہے کبیرؔ
یہ کس چراغ کو میں پھونک مار بیٹھا ہوں
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment