Saturday, 24 December 2016

رات بھی رکتی نہیں دن بھی گزر جاتا ہے

رات بھی رکتی نہیں دن بھی گزر جاتا ہے
یہ روز شب کا سیلاب کدھر جاتا ہے
کر کے آمادہ کوئی شخص سفر پر مجھ کو
اپنا رستہ مِری دہلیز پہ دھر جاتا ہے
صبح ہوتے ہی اچک لیتے ہیں الفاظ مِرے
میرا ہر دن کسی مصرعے میں گزر جاتا ہے
دل میں رکھتا ہوں تو ارمان نمو پاتے ہیں
لب پہ لاتا ہوں میں جذبے تو اثر جاتا ہے
میں بھٹکنے سے فقط اس لیے ڈرتا ہوں کبیرؔ
میں جدھر جاتا ہے ہر شخص ادھر جاتا ہے

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment