رات بھی رکتی نہیں دن بھی گزر جاتا ہے
یہ روز شب کا سیلاب کدھر جاتا ہے
کر کے آمادہ کوئی شخص سفر پر مجھ کو
اپنا رستہ مِری دہلیز پہ دھر جاتا ہے
صبح ہوتے ہی اچک لیتے ہیں الفاظ مِرے
دل میں رکھتا ہوں تو ارمان نمو پاتے ہیں
لب پہ لاتا ہوں میں جذبے تو اثر جاتا ہے
میں بھٹکنے سے فقط اس لیے ڈرتا ہوں کبیرؔ
میں جدھر جاتا ہے ہر شخص ادھر جاتا ہے
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment