Friday, 2 December 2016

نظام جبر میں جلتے ہوئے نگر دیکھے

نظامِ جبر میں جلتے ہوئے نگر دیکھے
نہ دیکھنے کا ارادہ کیا، مگر دیکھے
حسیں دیار بھی خالی نہ تھے بلاؤں سے
یہاں بھی نقرئ آسیب کے اثر دیکھے
لہوں میں تیرتی دیکھی ہیں بے خطا لاشیں
کہیں پہ دست بریدہ، کہیں پہ سر دیکھے
کہیں ثمر نظر آئے ہیں خشک شاخوں پر
کہیں عذاب زدہ نخلِ بے ثمر دیکھے
دماغ سوچ سے عاری، خرد جنوں کی اسیر
حواس باختہ آئے نظر، جدھر دیکھے
خدا تو خیر بعید از قیاس نقطہ ہے
ادھر کے آدمی خود سے بھی بے خبر دیکھے
کھلے گا کربِ مسلسل کا زخم دنیا پر
بہ چشمِ غور کوئی مِری چشمِ تر دیکھے

خیال امروہوی

No comments:

Post a Comment