کتنے سورج گھوم رہے ہیں فطرت کی پہنائی میں
ہم کیا سمجھیں، ہم کیا دیکھیں اپنی کم بینائی میں
صدہا لفظ ہزاروں فقرے، تاثیرات میں کھوٹے ہیں
جہلِ فرد کی تھور لگی ہے انساں کی دانائی میں
کارگہِ ترئین کی ساری باتیں حیرت ناک ملیں
شکر کسی صورت نہ کیا، شکوے کی کبھی عادت نہ گئی
سرد ہوا کو یاد کرو گے، سورج کی گرمائی میں
گھر میں گھس کر جس نے چاہا لوٹ لیا یا قتل کیا
خون بھی کتنا سستا نکلا، روٹی کی مہنگائی میں
خیال امروہوی
No comments:
Post a Comment