Friday, 2 December 2016

کھلتی ہوئی سحر کی ادا کون لے گیا

کھلتی ہوئی سحر کی ادا کون لے گیا
شہرِ خرد کی آب و ہوا کون لے گیا
بے کیف چل رہا ہے ارادوں کا کارواں
صحرا سے اب کے بانگِ درا کون لے گیا
شبنم سے بھی غبار برستا ہے دشت پر
حیرت ہے، موجِ بادِ صبا کون لے گیا
ابلیس نے تو جسم نچوڑا تھا رات بھر
لیکن محافظوں کی حیا کون لے گیا
توڑے ہیں کس نے کچے گھروندوں کے آسرے
غربت زدہ دلہن کی ردا کون لے گیا
کشکول کس نے دے دیا قسمت کے ہاتھ میں
پگڑی میں تھا جو بالِ ہما، کون لے گیا

خیال امروہوی

No comments:

Post a Comment