Saturday, 11 July 2020

موت سے موت تک

موت سے موت تک

مجھے اپنی موت سے بہت محبت ہے
موت زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے
محبتوں میں جدائی
وصل کے بعد کا کوئی مرحلہ ہوتی ہے
مگر یہ محبت روایتی نہیں
یہاں تو وصل کے انتظار میں
پوری زندگی جدائی کو دان کرنا پڑتی ہے
محبت اور تشویش کے تعلق سے
کس کو انکار ہو گا
اور موت سے زیادہ تشویش ناک شے
اور کیا ہو گی
مجھے اپنی موت سے عشق ہرگز نہیں
یہ میرا جنون بھی نہیں
صرف محبت ہے
وصل کا لطف اسی صورت میں آتا ہے
جب وہ اپنے مقررہ وقت پر ہو
میں وقت سے پہلے نہیں مرنا چاہتا
مجھے ہر اس موت سے شدید نفرت ہے
جو وقت سے پہلے
کسی کو گلے لگا لیتی ہے
وہ موت جو گولی کے بارود میں چھپ کر
ہفتوں اپنے شکار کا پیچھا کرتی ہے
مجھے ایک نظر نہیں بھاتی
میں ہر دن اس موت کا گلا دبوچنا چاہتا ہوں
جو لوگ خود اپنے حلق پر
اور اپنی نبضوں پر تحریر کرتے ہیں
مجھے وہ اڑتی ہوئی موت ہفتوں کھَلتی ہے
جو کسی چھت پر گرنے سے پہلے
برباد ہونے والے گھروں کی گنتی
بھول جاتی ہے
مجھے گھِن آتی ہے جیکٹ میں قید اس موت سے
جس کو بچے اور بوڑھے کا فرق نظر نہیں آتا
جو آزاد ہو کر
سینکڑوں سینوں پر تقسیم ہو جاتی ہے
نائٹروجن کے نیوکلئس میں رکھ کر
شہروں پر گرائی جانے والی موت
جو آنے والی زندہ نسلوں کے اعضاء
اور خدوخال سے جھانکتی ہے
سالوں تک میرا خون چوستی ہے
مجھے اپنی موت سے محبت کے علاوہ
ہر اس موت سے نفرت ہے
جو ملک الموت کے ٹائم ٹیبل میں نہیں لکھی ہوئی

بلال اسود

No comments:

Post a Comment