موت سے موت تک
مجھے اپنی موت سے بہت محبت ہے
موت زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے
محبتوں میں جدائی
وصل کے بعد کا کوئی مرحلہ ہوتی ہے
یہاں تو وصل کے انتظار میں
پوری زندگی جدائی کو دان کرنا پڑتی ہے
محبت اور تشویش کے تعلق سے
کس کو انکار ہو گا
اور موت سے زیادہ تشویش ناک شے
اور کیا ہو گی
مجھے اپنی موت سے عشق ہرگز نہیں
یہ میرا جنون بھی نہیں
صرف محبت ہے
وصل کا لطف اسی صورت میں آتا ہے
جب وہ اپنے مقررہ وقت پر ہو
میں وقت سے پہلے نہیں مرنا چاہتا
مجھے ہر اس موت سے شدید نفرت ہے
جو وقت سے پہلے
کسی کو گلے لگا لیتی ہے
وہ موت جو گولی کے بارود میں چھپ کر
ہفتوں اپنے شکار کا پیچھا کرتی ہے
مجھے ایک نظر نہیں بھاتی
میں ہر دن اس موت کا گلا دبوچنا چاہتا ہوں
جو لوگ خود اپنے حلق پر
اور اپنی نبضوں پر تحریر کرتے ہیں
مجھے وہ اڑتی ہوئی موت ہفتوں کھَلتی ہے
جو کسی چھت پر گرنے سے پہلے
برباد ہونے والے گھروں کی گنتی
بھول جاتی ہے
مجھے گھِن آتی ہے جیکٹ میں قید اس موت سے
جس کو بچے اور بوڑھے کا فرق نظر نہیں آتا
جو آزاد ہو کر
سینکڑوں سینوں پر تقسیم ہو جاتی ہے
نائٹروجن کے نیوکلئس میں رکھ کر
شہروں پر گرائی جانے والی موت
جو آنے والی زندہ نسلوں کے اعضاء
اور خدوخال سے جھانکتی ہے
سالوں تک میرا خون چوستی ہے
مجھے اپنی موت سے محبت کے علاوہ
ہر اس موت سے نفرت ہے
جو ملک الموت کے ٹائم ٹیبل میں نہیں لکھی ہوئی
بلال اسود
No comments:
Post a Comment