Saturday, 11 July 2020

‎رات آنکھوں میں تھمی ہے نیند ہے اور خواب ہے

‎زندگی ہے، آدمی ہے، نیند ہے اور خواب ہے
‎پھر سکوتِ دائمی ہے، نیند ہے اور خواب ہے
‎دل میں بارش ہو رہی ہے، دھوپ ہے وجدان میں
‎برف پلکوں پر "جمی" ہے، نیند ہے اور خواب ہے
‎بے قراری،۔ بے کلی،۔ بے اختیاری،۔ بے دلی
‎بے خودی ہے, بے دمی ہے، نیند ہے اور خواب ہے
‎بھینی "بھینی" گیلی "مٹی" کی مہک کمرے میں ہے
‎گاؤں کی "کچی" زمیں ہے، نیند ہے اور خواب ہے
‎آنکھ "کھل" جائے تو رہ جائے "ادھوری" داستاں
‎یہ "تعلق" باہمی ہے، نیند ہے اور خواب ہے
‎صبح" ہو جاتی ہے لیکن،۔ "دن" نکلتا ہی نہیں"
‎رات آنکھوں میں تھمی ہے نیند ہے اور خواب ہے
‎کرب اور "تکلیف" اسود "جاگتے" رہنے میں ہے
‎بے غمی ہی بے غمی ہے، نیند ہے اور خواب ہے

بلال اسود

No comments:

Post a Comment