میں نے زندگی ڈوبتے سورج سے سیکھی ہے
کوئٹہ میں شام ہزاروں رنگ لیے ڈھلتی ہے
سرمئی، سرخ ، مالٹائی، اودی، دھانی اور جامنی رنگوں کا فیوژن
آسمانی رنگ کو اور گہرا کر دیتا ہے
یوں لگتا ہے دھنک پھیل کر چھتوں پر گرنے لگی ہے
گلابی منظر کی موسیقی ماحول کو اور خواب ناک کر دیتی ہے
سورج پھسل کر جب چِلتن سے نیچے گر جاتا ہے
تو زرغون، مردار اور تکتو آسمان کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں
آسمان کی ململی چادر تینوں اطراف سے ڈھلکنے لگتی ہے
میں ہوا کی تاروں پر انگلیاں رکھتی ہوں تو سرمدی ستار بجنے لگتا ہے
پرندے جاتے جاتے کچھ آیتیں فضا میں چھوڑ جاتے ہیں
آخری دستخط ہوتے ہی
سیاہی کی بوتل الٹ دی جاتی ہے
الوہی کوڈز مغرب کی اذانوں میں کھلتے ہیں
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment