وہ اک نادان سی لڑکی
وہ اک نادان سی لڑکی
کسی کے عشق میں پاگل
سجا کر خواب آنکھوں میں
کسی بھی راہ پر جا کر
وہی پر بیٹھ جاتی ہے
چراغِ دل جلاتی ہے
اُسی کی راہ تکتی ہے
شبِ ہجراں تڑپتی ہے
مگر اس کے نہ آنے پر
وہ نا اُمید ہوتی ہے
تو واپس لوٹ جاتی ہے
وہ اک نادان سی لڑکی
محبت ہو گئی اُس کو
کسی انجان چہرے سے
مگر وہ اجنبی چہرہ
نظر اس کو نہیں آتا
کبھی پھر غصے میں آ کر
وہ برتن توڑ دیتی ہے
وہ اکثر بے دھیانی میں
کبھی چائے بنائے تو
وہ چائے میں نمک ڈالے گی
اکثر چھوڑ کر چینی
وہ اک نادان سی لڑکی
اُسے معلوم ہی کیا ہے؟
محبت کیا ہے، کیسی ہے؟
محبت ایک آتش ہے
مگر وہ تو محبت سے
بھی آگے عشق کر بیٹھی
کہ جس سے بچنا ہے مشکل
وہ لڑکی عشق میں کھو کر
گنوا بیٹھی ہے ہوش اپنا
مگر
ابھی کچھ ہو نہیں سکتا
اُسے برباد ہونا ہے
اُسے ذلت اٹھانی ہے
اُسے جلنا پڑے گا
عشق کے شعلوں میں ہر لمحہ
وہ اک نادان سی لڑکی
کسی کے عشق میں پاگل
راشد خان عاشر
No comments:
Post a Comment