Sunday, 2 January 2022

اک لمحہ بھی صدیوں سے بڑا ہے مرے آقا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اک لمحہ بھی صدیوں سے بڑا ہے مِرے آقاﷺ

یہ زندگی کیا ہے، یہ سزا ہے مِرے آقاﷺ

اک سانس مِری سہل ہے اک سانس ہے دشوار

اک وصل ہے اور ہجر نما ہے مِرے آقاﷺ

جن کی نظر اُس منظرِ یکتا پہ ہے ان کو

نظارۂ دنیا بھی خلا ہے مِرے آقاﷺ

مرنا ہو تو شادابئ قربت کی ہے امید

جینے کو تِرا ذکر بڑا ہے مِرے آقاﷺ

اک خواب ہے، اک دشت ہے، کہسار ہیں اشجار

ماحول ہے اک آب و ہوا ہے مِرے آقاﷺ

پھر بھی جیے جاتا ہے کہ ہے آپؐ سے امید

یہ بندہ گنہ گار بڑا ہے مِرے آقاﷺ

یہ شاعری الہام کے باعث ہے، وگرنہ

سب جانتے ہیں بندے میں کیا ہے مِرے آقاﷺ


انعام کبیر

No comments:

Post a Comment