Saturday, 1 January 2022

ہم اپنی ہار کا یقین اب کسے دلائیں گے سمے کا داؤ سخت ہے

 سمے کا داؤ سخت ہے


عجیب بھیڑ ہے

دماغ کھچڑیوں سے بھر گئے

طبیب اپنی ہار سے ڈرے ہوئے

الگ تھلگ پڑے ہوئے ہیں بور سے

پکے پڑے ہیں کان دُکھ کے شور سے

ہر اک یقین ٹوٹنے کا وقت ہے

ان اجنبی سٹیشنوں پہ ان دنوں

پدھارتی ہر اک ٹرین نے نہیں لگام لی

سمے کی بوگیوں نے پٹڑیوں کا ساتھ چھوڑ کر 

عجیب سمت تھام لی

سکون چین لُوٹنے کا وقت ہے

کسے کہیں

ہماری بات کو سنے بھی کون غور سے

دماغ کام کر رہے ہیں انگلیوں کی پور سے

گزر رہی ہے کائنات ایک چُپ کے شور سے

ابھی تو زندگی لُبھا رہی ہے سب کو زور سے

سکوت میں پلے ہوئے جمود کے قریب سے گزر گئے

جنہیں تھی منزلوں کی چاہ، راہ میں اتر گئے

ہمی تو خواہشوں کے بارے ایک جا ٹھہر گئے

اسی لیے ہمارے ہاتھ نارسی سے بھر گئے

کٹے ہوئے ہیں روشنی کے باب سے

بھٹک رہے ہیں اپنے اجتناب سے

شعور چھوٹنے کا وقت ہے

سمے کی چاپ سنتے سنتے اس لیے بھی رو دئیے

کہ ہم نے ماس اپنے نیلے ناخنوں سے کھو دئیے

ہے شکر، یہ قلم کتاب ساتھ ہے وگرنہ ہم

کسی کی یاد کا رُباب ساتھ ہے وگرنہ ہم

گریز کی ندی کو پھاند کر دِیے اجالتے

سمے کے پار اپنی دیکھ بھال کو سنبھالتے

ہمیں یہ زعم تھا سمندروں کے دَل کھنگالتے

ہم اپنی ہار کا یقین اب کِسے دلائیں گے

سمے کا داؤ سخت ہے

جمود کی کرختگی کے پُھوٹنے کا وقت ہے


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment