مرثیہ اورنگزیب
اورنگزیب مر گئے نیکی جگت میں کر گئے
تخت اور چھپر کو دھر گئے آخر فنا، آخر فنا
مؤا خدا کی یاد میں، رکھا اورنگ آباد میں
خبریں گئیں بغداد میں،۔ آخر فنا، آخر فنا
اعظم جو آ یاد ہائے کر امراؤ ان کے آئے کر
روئے کھڑے سب دہائی کر، آخر فنا، آخر فنا
اعظم چلے جب خان کو چلتے جو ہندوستان کو
مجھ شوق ہے گھمسان کو، آخر فنا، آخر فنا
جعفر زٹلی
No comments:
Post a Comment