اپنوں کی وجہ سے نہ تو اغیار کے باعث
ٹھوکر تو لگی راہ میں رفتار کے باعث
زخمی بھی ہوئے ہاتھ کئی بار ہمارے
گلشن کی فضا میں بھی فقط خار کے باعث
کل تک میری خاموشیاں کَھلتی تھی جنہیں، وہ
ناراض ہیں مجھ سے میری گُفتار کے باعث
جلتا ہے تجلّی سے کہیں طُور کا دامن
کیا انگلیاں کٹ جائیں گی دیدار کے باعث
بند توڑ کے پلکوں کے بھی آنکھوں سے ہمارے
نکلے ہیں اسد! اشک بھی آزار کے باعث
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment