شاید خدا راضی نہیں
بہت بھاری سال تھا
قاتلانہ وصف کی ہر ادا خود میں لیے
جس کی بہاروں کو خزاں
عقونتوں کے پھن سے
سارا سال ہی ڈستی رہی
شجر کی خشک ٹہنیوں سے
پیلے پتوں کی طرح، انسان
لمحہ لمحہ گرتے رہے
کچھ وسوسوں کے خوف سے
کچھ اجل کے فیصلوں کی رو سے
اپنی اپنی لحد کی تاریکی میں اتر گئے
بیریوں پہ بیر بھی کچھ کم لگے
وقت سے پہلے، کچے ہی گرے
کانٹے اپنی شاخوں پر لگے رہے
خوفزدہ گلہریاں بھی
نظروں سے اوجھل رہیں
ان کا شعور بھانپ گیا
شاید خدا راضی نہیں
کچھ خرابی ہے کہیں
جو وقت ہم پہ بھاری ہے
کچھ تو ہے
ورنہ ہماری جان کے ٹکڑے
ہمارے اشک آنکھوں میں بجھا کر
خاموشی سے
یوں رخصت نہ ہو جاتے
قیصر اقبال
No comments:
Post a Comment