Saturday, 1 January 2022

شاید خدا راضی نہیں جو وقت ہم پہ بھاری ہے

 شاید خدا راضی نہیں


بہت بھاری سال تھا

قاتلانہ وصف کی ہر ادا خود میں لیے

جس کی بہاروں کو خزاں

عقونتوں کے پھن سے

سارا سال ہی ڈستی رہی

شجر کی خشک ٹہنیوں سے

پیلے پتوں کی طرح، انسان

لمحہ لمحہ گرتے رہے

کچھ وسوسوں کے خوف سے

کچھ اجل کے فیصلوں کی رو سے

اپنی اپنی لحد کی تاریکی میں اتر گئے

بیریوں پہ بیر بھی کچھ کم لگے

وقت سے پہلے، کچے ہی گرے

کانٹے اپنی شاخوں پر لگے رہے

خوفزدہ گلہریاں بھی

نظروں سے اوجھل رہیں

ان کا شعور بھانپ گیا

شاید خدا راضی نہیں

کچھ خرابی ہے کہیں

جو وقت ہم پہ بھاری ہے

کچھ تو ہے

ورنہ ہماری جان کے ٹکڑے

ہمارے اشک آنکھوں میں بجھا کر

خاموشی سے

یوں رخصت نہ ہو جاتے


قیصر اقبال 

No comments:

Post a Comment