طبعی موت پر خود کشی کا ماتم
میں اعتراف کرتا ہوں
میں خود کشی سے پہلے لکھا گیا آخری خط ہوں
زندہ رہنے اور اپنے ہمزاد کو گالیاں دینے میں کوئی فرق نہیں
مجھے خود سے سوتیلی ماں جتنی ہمدردی ہے
میں تنہائی کو ذبح کر کے سمندر میں پھینک آیا ہوں
اب میں خود کو
کسی بھی دوسرے شخص کے نام سے پکار سکتا ہوں
سانس لینے کا مشغلہ اختیار کرنا
اور بد صورت لڑکی کو
چائے کی دعوت دینا
بالکل ایک جیسا ناٹک ہے
میں اپنا چہرہ پھاڑ کر پھینک چکا ہوں
اب مجھے کوئی نہیں پہچانتا
جیسے میں نے تمہیں
بے لباس دیکھنے کے بعد
قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا
بوڑھا پن میرے اندر
کسی نادیدہ خوف کی طرح پھیل رہا ہے
ممکن ہے میں کسی دن خود کو
کہیں رکھ کر بھول جاؤں گا
اپنی یاداشت دفنانے
میں ایک جنگل میں نکل آیا ہوں
پرندے مجھے اپنا بچھڑا ہوا بھائی سمجھ رہے ہیں
درختوں کی خوفناک داڑھیاں
خود کو محفوظ رکھنے کے لیے
میرے تعاقب میں نکل آئی ہیں
پاؤں میں پہنی ہوئی سانسیں
مجھے خود سے لپیٹ لیتی ہیں
اور میں خوفزدہ ہو کر
خود کو کسی گلے میں پھنسا
مچھلی کا کانٹا محسوس کرتا ہوں
میں خود کو قتل کرنے کے بعد
ایک نظر اپنی لاش کو دیکھوں گا
جیسے نابینا کھلاڑی نے
پرانے صندوق سے ملنے والی لالٹین کو
چھت کے کونے میں پھینک کر
آخری بار حقارت کی نظر سے دیکھا تھا
ذیشان راٹھور
No comments:
Post a Comment