Friday, 15 February 2019

بڑھا لے اپنی سواری نہ اب دکان لگا

بڑھا لے اپنی سواری نہ اب دکان لگا 
وہ صور پھونک رہا ہے زمیں سے کان لگا
بدن کی قید سے باہر نکلنا ہے تجھ کو
پہاڑ کاٹنا مشکل ہے دوست، جان لگا
سلگتی ریت پہ آ کر گِرا وجود اس کا
وہ تیغ کھینچ رہا تھا کہ تیر آن لگا

ریت مٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیا

ریت مُٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیا 
سخت مشکل میں تھا آسانی سے آغاز کیا 
مجھ کو مٹی سے بدن بنتے ہوۓ عمر لگی 
میری تعمیر نے ویرانی سے آغاز کیا 
یہ جہانوں کا، زمانوں کا، مکانوں کا سفر 
غیب نے لفظ سے یا معنی سے آغاز کیا 

بکھرنے کا سبب مٹی پہ لکھتا جا رہا ہوں

بکھرنے کا سبب مٹی پہ لکھتا جا رہا ہوں
میں تہذیبِ ادب مٹی پہ لکھتا جا رہا ہوں
سحر ہو گی تو شاید جاگنے والے پڑھیں گے
میں قصہ ہائے شب مٹی پہ لکھتا جا رہا ہوں
ورق سونے کے مجھ کو کس نے دینے تھے کہ دیتا
سو اپنے خواب سب مٹی پہ لکھتا جا رہا ہوں

Wednesday, 6 February 2019

کیا بات ہے اے جان سخن بات کئے جا

کیا بات ہے اے جان سخن بات کیے جا 
ماحول پہ نغمات کی برسات کیے جا 
دنیا کی نگاہوں میں بڑی حرص بھری ہے 
نا اہل زمانے سے حجابات کیے جا 
نیکی کا ارادہ ہے تو پھر پوچھنا کیسا 
دن رات فقیروں کی مدارات کیے جا 

بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا

بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا 
جو بچ رہے تھے انہیں مے پلا کے مار دیا 
یہ کیا ادا ہے کہ جب ان کی برہمی سے ہم 
نہ مر سکے تو ہمیں مسکرا کے مار دیا 
نہ جاتے آپ تو آغوش کیوں تہی ہوتی 
گئے تو آپ نے پہلو سے جا کے مار دیا 

آج پھر روح میں اک برق سی لہراتی ہے

آج پھر روح میں اک برق سی لہراتی ہے 
دل کی گہرائی سے رونے کی صدا آتی ہے 
یوں چٹکتی ہیں خرابات میں جیسے کلیاں 
تشنگی ساغرِ لبریز سے ٹکراتی ہے 
شعلۂ غم کی لپک اور مرا نازک سا مزاج 
مجھ کو فطرت کے رویے پہ ہنسی آتی ہے 

مرا اخلاص بھی اک وجہ دلآزاری ہے

مِرا اخلاص بھی اک وجہِ دل آزاری ہے 
بندہ پرور مجھے احساسِ گنہ گاری ہے 
آپ اذیت کا بناتے ہیں جو خوگر مجھ کو 
اس سے بہتر بھلا کیا صورتِ غمخواری ہے
محض تسکین برآری کے بہانے ہیں سب 
میں تو کہتا ہوں محبت بھی ریاکاری ہے