جب ڈھونڈنے اس کا در گئے ہم
در تو نہ ملا، بکھر گئے ہم
سب سمجھے یہی کہ مر گئے ہم
دن ڈھلنے لگا تھا، گھر گئے ہم
بچھڑی نہ کسی کی یاد ہم سے
ہمراہ رہی، جدھر گئے ہم
جب ڈھونڈنے اس کا در گئے ہم
در تو نہ ملا، بکھر گئے ہم
سب سمجھے یہی کہ مر گئے ہم
دن ڈھلنے لگا تھا، گھر گئے ہم
بچھڑی نہ کسی کی یاد ہم سے
ہمراہ رہی، جدھر گئے ہم
کہیں تو راکھ کا آنگن سجا ہو
کہ جس میں اپنا بھی تن من چُھپا ہو
کسی بُجھتے ہوئے تارے سے جاناں
ہمارے پیار کا بندھن جُڑا ہو
تمہاری سوچ میں گُم تھا وہی تو
تمہارے دست و پا سے جو جُدا ہو
رقصِ دُکھ
ایک ناقابلِ برداشت دُکھ
درد سے اٹھتی ہوئی
چِیخ کے سُر پر
مُسلسل رقص کر رہا ہے
مُمکن ہے چکرانے پر
دل میں غم ہو تو غزل ہوتی ہے
آنکھ نم ہو تو غزل ہوتی ہے
درد سارا جو تُو نے بخشا ہے
دل میں ضم ہو تو غزل ہوتی ہے
آج کل میں ذرا سا خوش خوش ہوں
جب الم ہو تو غزل ہوتی ہے
زمیں پر آسماں ٹھہرا ہوا ہے
یہ اس کا پاسباں ٹھہرا ہوا ہے
رکا ہوں چلتے چلتے اس لیے میں
ہوا ٹھہری، سماں ٹھہرا ہوا ہے
جو کہنا چاہتا ہوں، کہہ نہ پاؤں
نہ جانے کیوں بیاں ٹھہرا ہوا ہے
مری تو خود سے منہ ماری ہوئی ہے
تری آواز کیوں بھاری ہوئی ہے
تُو کن لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہے
تِری تو سوچ بھی ہاری ہوئی ہے
تمہارے جسم سے کیا مَس ہوا میں
جو میرے دل کو سرشاری ہوئی ہے
جھوٹ کا موسم
کل ساون کی پہلی بارش ٹوٹ کے برسی
پچھلے سال اس موسم میں وہ آیا تھا
"ساتھ جئیں گے، ساتھ مریں گے"
اس نے کتنے عہد کیے تھے
کتنی قسمیں کھائی تھیں
اور پھر اجلی اجلی آنکھوں والا