Saturday, 30 May 2015

آ اسی جھیل کے کنارے آ


آ، اسی جھیل کے کنارے آ
آ، مِرے پیار کے سہارے آ
آ، کہ ٹوٹے سکوت لہروں کا
آ، کہ بہنے لگیں یہ دھارے، آ
آ، کہ دل کو قرار آ جائے
آ، کہ دل بولے آرے آ، آرے آ

آیت جاں سے در دل کو اجالے رکھوں

آیتِ جاں سے درِ دل کو اجالے رکھوں
مثلِ تعویذ گلے میں اسے ڈالے رکھوں
اس کے آنچل کی مہک چھونے لگی میرا بدن
اپنی بانہوں میں ہواؤں کو سنبھالے رکھوں
آ! مرے چاند نہ لگ جائے ستاروں کی نظر
میں ترے گِرد مناجات کے ہالے رکھوں

شفق یقین کی جب آسماں سے پھوٹے گی

شفق یقین کی جب آسماں سے پھوٹے گی
تو روشنی ہی مِرے جسم و جاں سے پھوٹے گی
زمینِ دل پہ جو برسیں گے یاد کے بادل
تِرے خیال کی خوشبو یہاں سے پھوٹے گی
وہ جس نے آگ کو گلزار سے بدل ڈالا
مِری کہانی اُسی داستاں سے پھوٹے گی

گم سم گم سم سے رہتے ہیں ہم دل کا جانی کھو بیٹھے

گم سم گم سم سے رہتے ہیں ہم دل کا جانی کھو بیٹھے
آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے، آنکھوں کا پانی کھو بیٹھے
جو دل میں جوت جگاتی تھی، جو شب بھر نور لٹاتی تھی
جو تیرے گھر تک آتی تھی، وہ راہ پرانی کھو بیٹھے تھے
سکھ اور دکھ کی برسات کریں، جو چاہیں اب حالات کریں
خاموش رہیں یا بات کریں، کردار کہانی کھو بیٹھے

اے مری نیند مجھے خواب سے اب یاد میں لا

اے مِری نیند مجھے خواب سے اب یاد میں لا
کنجِ ویراں سے اٹھا خطۂ آباد میں لا
منکرِ صبر نہیں ہیں مگر اے صبر فشاں
صبر کرنے کی دوا کو کسی معیاد میں لا
بکھرے بکھرے ہوئے خاکوں میں ہیں بکھرے سے نقوش
میرے چہرے کو کبھی موسمِ ایجاد میں لا

یہ پیاس پانی میں تحلیل ہونے والی ہے

یہ پیاس پانی میں تحلیل ہونے والی ہے
اب اضطراب کی تکمیل ہونے والی ہے
ابھر رہا ہے کہیں کوہِ ہجر سے سورج
جدائی وصل میں تبدیل ہونے والی ہے
کنول کھلیں گے جہاں خاکِ ہجر اڑتی تھی
وہ آنکھ دشت سے اب جھیل ہونے والی ہے

خوں میں لتھڑی ہوئی پوشاک سحر ملتی ہے

خوں میں لتھڑی ہوئی پوشاکِ سحر ملتی ہے
بند بوری میں کٹی لاشِ بشر ملتی ہے
خوف کے سائے نظر آتے ہیں ہر چہرے پر
سہمی سہمی ہوئی ہر راہگزر ملتی ہے
محوِ رقص اژدہے سفاکی و دہشت کے ملیں
فاختہ گریہ کناں شہر بدر ملتی ہے