Wednesday, 24 November 2021

دکھنے سے تو لگتا ہے امیروں کی طرح ہوں

دکھنے سے تو لگتا ہے امیروں کی طرح ہوں

پر عشق میں تیرے میں فقیروں کی طرح ہوں

مدت ہوئی خوشیوں کو ترستا ہوں ابھی تک

مفلس کے میں ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ہوں

جو اپنے کیے جرم پہ ہوں مطمئن سدا

ہاں میں بھی محبت کے اسیروں کی طرح ہوں

دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں

 دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں

ہر نفس مجھ کو بے کلی ہے کیوں

دل لگاتا ہے بس صدا تیری

بے قراری یہ بڑھ رہی ہے کیوں

اس کے کوچے میں عمر گزری پھر

کوچۂ یار اجنبی ہے کیوں

جلاؤ غم کے دیے پیار کی نگاہوں میں

 جلاؤ غم کے دِیے پیار کی نگاہوں میں

کہ تیرگی ہے بہت زندگی کی راہوں میں

سنا کہ اب بھی سرِ شام وہ جلاتے ہیں

اداسیوں کے دِیے منتظر نگاہوں میں

غمِ حیات نے دامن پکڑ لیا، ورنہ

بڑے حسین بلاوے تھے ان نگاہوں میں

جھوٹ کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں

 جھوٹ کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں

رقص بے معنی کی جھنکار کہاں سے لاؤں

ڈھونڈ کے حیلۂ تکذیب برائے انصاف

بے محابا سر دربار کہاں سے لاؤں

بے خبر عشق سے ہیں آج ریاکار شیوخ

جذبِ منصور سرِ دار کہاں سے لاؤں

نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

 نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

بتاؤ یوں بھی کہیں دل ملائے جاتے ہیں

ہجومِ جلوۂ رنگیں کا مدعا معلوم

ہماری تابِ نظر آزمائے جاتے ہیں

حجاب ہو مگر ایسا بھی کیا حجاب آخر

جھلک دکھاتے نہیں منہ چھپائے جاتے ہیں

سنو اے ہمنفس سنو ہمارا بین بھی سنو

 سنو اے ہمنفس سنو 

ہمارا بین بھی سنو 

کہ چشمِ تر میں یوں 

تمہارے ہجر کو سہارنا سہل نہ تھا 

جب ان رگوں کے درمیان سانس اٹک رہی تھی

اور خون جم چکا تھا

دامن ضبط کو اشکوں میں بھگو لیتا ہوں

 دامنِ ضبط کو اشکوں میں بھگو لیتا ہوں

درد جب حد سے گزرتا ہے تو رو لیتا ہوں

آنکھ لگتی ہی نہیں نیند کہاں سے آئے؟

نیند آتی نہیں کہنے کو تو سو لیتا ہوں

جب نہیں ملتا انیسِ غمِ فرقت کوئی

رکھ کے تصویر تِری سامنے رو لیتا ہوں