دکھنے سے تو لگتا ہے امیروں کی طرح ہوں
پر عشق میں تیرے میں فقیروں کی طرح ہوں
مدت ہوئی خوشیوں کو ترستا ہوں ابھی تک
مفلس کے میں ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ہوں
جو اپنے کیے جرم پہ ہوں مطمئن سدا
ہاں میں بھی محبت کے اسیروں کی طرح ہوں
دکھنے سے تو لگتا ہے امیروں کی طرح ہوں
پر عشق میں تیرے میں فقیروں کی طرح ہوں
مدت ہوئی خوشیوں کو ترستا ہوں ابھی تک
مفلس کے میں ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ہوں
جو اپنے کیے جرم پہ ہوں مطمئن سدا
ہاں میں بھی محبت کے اسیروں کی طرح ہوں
دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں
ہر نفس مجھ کو بے کلی ہے کیوں
دل لگاتا ہے بس صدا تیری
بے قراری یہ بڑھ رہی ہے کیوں
اس کے کوچے میں عمر گزری پھر
کوچۂ یار اجنبی ہے کیوں
جلاؤ غم کے دِیے پیار کی نگاہوں میں
کہ تیرگی ہے بہت زندگی کی راہوں میں
سنا کہ اب بھی سرِ شام وہ جلاتے ہیں
اداسیوں کے دِیے منتظر نگاہوں میں
غمِ حیات نے دامن پکڑ لیا، ورنہ
بڑے حسین بلاوے تھے ان نگاہوں میں
جھوٹ کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں
رقص بے معنی کی جھنکار کہاں سے لاؤں
ڈھونڈ کے حیلۂ تکذیب برائے انصاف
بے محابا سر دربار کہاں سے لاؤں
بے خبر عشق سے ہیں آج ریاکار شیوخ
جذبِ منصور سرِ دار کہاں سے لاؤں
نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں
بتاؤ یوں بھی کہیں دل ملائے جاتے ہیں
ہجومِ جلوۂ رنگیں کا مدعا معلوم
ہماری تابِ نظر آزمائے جاتے ہیں
حجاب ہو مگر ایسا بھی کیا حجاب آخر
جھلک دکھاتے نہیں منہ چھپائے جاتے ہیں
سنو اے ہمنفس سنو
ہمارا بین بھی سنو
کہ چشمِ تر میں یوں
تمہارے ہجر کو سہارنا سہل نہ تھا
جب ان رگوں کے درمیان سانس اٹک رہی تھی
اور خون جم چکا تھا
دامنِ ضبط کو اشکوں میں بھگو لیتا ہوں
درد جب حد سے گزرتا ہے تو رو لیتا ہوں
آنکھ لگتی ہی نہیں نیند کہاں سے آئے؟
نیند آتی نہیں کہنے کو تو سو لیتا ہوں
جب نہیں ملتا انیسِ غمِ فرقت کوئی
رکھ کے تصویر تِری سامنے رو لیتا ہوں