Friday 23 August 2013

دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے

دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے
اب کے جانے کا نہیں موسمِ گر یہ شاید
مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے
عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم
کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے
کچھ دِلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب
کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے
تم بھی پاگل ہو کہ اُس شخص پہ مرتے ہو فرازؔ
ایک دنیا کی نظر جس پہ جمی رہتی ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment