Saturday, 12 December 2015

وہ کون ہے جس کی وحشت پر سنتے ہیں کہ جنگل روتا ہے

وہ کون ہے جس کی وحشت پر سنتے ہیں کہ جنگل روتا ہے
ویرانے میں اکثر رات گئے، اک شخص ہے پاگل روتا ہے
پھر سر سے کہیں پروائی چلی، کھلتے نہیں دیکھی دل کی کلی
یہ جھوٹ ہے برکھا ہوتی ہے، یہ سچ ہے کہ بادل روتا ہے
ہے اس کا سراپا دیدۂ تر، دنیا کو مگر کیا اس کی خبر
سب کیلیے آنکھیں ہنستی ہیں، میرے لیے کاجل روتا ہے
وہ کس کیلیے سنگھار کرے، چندن سا بدن یوں روپ بھرے
جب مانگ جھکا جھک ہوتی ہے، آئینہ جھلاجھل روتا ہے
بنتی نہیں دل سے شاذؔ اپنی، یہ دوست ہے یا دشمن کوئی
ہم ہیں کہ مسلسل ہنستے ہیں، وہ ہے کہ مسلسل روتا ہے

شاذ تمکنت

No comments:

Post a Comment