وہ کون ہے جس کی وحشت پر سنتے ہیں کہ جنگل روتا ہے
ویرانے میں اکثر رات گئے، اک شخص ہے پاگل روتا ہے
پھر سر سے کہیں پروائی چلی، کھلتے نہیں دیکھی دل کی کلی
یہ جھوٹ ہے برکھا ہوتی ہے، یہ سچ ہے کہ بادل روتا ہے
ہے اس کا سراپا دیدۂ تر، دنیا کو مگر کیا اس کی خبر
وہ کس کیلیے سنگھار کرے، چندن سا بدن یوں روپ بھرے
جب مانگ جھکا جھک ہوتی ہے، آئینہ جھلاجھل روتا ہے
بنتی نہیں دل سے شاذؔ اپنی، یہ دوست ہے یا دشمن کوئی
ہم ہیں کہ مسلسل ہنستے ہیں، وہ ہے کہ مسلسل روتا ہے
شاذ تمکنت
No comments:
Post a Comment