آج حضورِ یار ہم عرضِ وصال لے چلے
وہم و گماں کی خیر ہو خواب و خیال لے چلے
عکسِ رُخِ بہار ہم آئینۂ نگار ہم
اپنی نگاہ میں تِرا حسن و جمال لے چلے
زخم دکھانے آج ہم شمع جلانے آج ہم
تجھ کو سنانے آج ہم صورتِ حال لے چلے
ضبط کیا ہے عمر بھر کون کرے گا یوں بسر
اپنی مثال ہی نہ تھی اپنی مثال لے چلے
صبحِ ازل سے شاذ ہم مانگ کے لائے شامِ غم
جس کا جواب ہی نہیں ایسا سوال لے چلے
وہم و گماں کی خیر ہو خواب و خیال لے چلے
عکسِ رُخِ بہار ہم آئینۂ نگار ہم
اپنی نگاہ میں تِرا حسن و جمال لے چلے
زخم دکھانے آج ہم شمع جلانے آج ہم
تجھ کو سنانے آج ہم صورتِ حال لے چلے
ضبط کیا ہے عمر بھر کون کرے گا یوں بسر
اپنی مثال ہی نہ تھی اپنی مثال لے چلے
صبحِ ازل سے شاذ ہم مانگ کے لائے شامِ غم
جس کا جواب ہی نہیں ایسا سوال لے چلے
شاذ تمکنت
No comments:
Post a Comment