Saturday, 12 December 2015

یہ حسن عمرِ دو روزہ تغیرات سے ہے

یہ حسنِ عمرِ دو روزہ، تغیرات سے ہے
ثباتِ رنگ اسی رنگِ بے ثبات سے ہے
پرو دیئے مِرے آنسو سحر کی کرنوں نے
مگر وہ درد جو پہلو میں پچھلی رات سے ہے
یہ کارخانۂ سود و زیانِ مہر و وفا
نہ تیری جیت سے قائم نہ میری مات سے ہے
مجھے تو فرصتِ سیرِ صفاتِ حسن نہیں
یہاں جو کام ہے وابستہ تیری ذات سے ہے
ہر اک سراب سے چمکا ہے ظرفِ سیرابی
ہر ایک سلسلۂ تشنگی فرات سے ہے
تعلقات کی گہرائیوں کا اندازہ
خدا گواہ، کہ ترکِ تعلقات سے ہے
ہنوز سنگ میں رقصاں ہے جوئے شِیر اے شاد
ہنوز، آس کسی تیشہ زن کے ہات سے ہے

شاذ تمکنت

No comments:

Post a Comment