جب بھی آتی ہے تیری یاد کبھی شام کے بعد
اور بڑھ جاتی ہے افسردگی شام کے بعد
اب ارادوں پہ بھروسا ہے، نہ توبہ پہ یقیں
مجھ کو لے جائے کہاں تشنہ لبی شام کے بعد
یوں تو ہر لمحہ تیری یاد کا بوجھل گزرا
یوں تو کچھ شام سے پہلے بھی اداسی تھی ادیبؔ
اب تو کچھ اور بڑھی دل کی لگی شام کے بعد
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment