Friday, 11 December 2015

جب بھی آتی ہے تیری یاد کبھی شام کے بعد

جب بھی آتی ہے تیری یاد کبھی شام کے بعد
اور بڑھ جاتی ہے افسردگی شام کے بعد
اب ارادوں پہ بھروسا ہے، نہ توبہ پہ یقیں
مجھ کو لے جائے کہاں تشنہ لبی شام کے بعد
یوں تو ہر لمحہ تیری یاد کا بوجھل گزرا
دل کو محسوس ہوئی تیری کمی شام کے بعد
یوں تو کچھ شام سے پہلے بھی اداسی تھی ادیبؔ
اب تو کچھ اور بڑھی دل کی لگی شام کے بعد

کرشن ادیب

No comments:

Post a Comment