تلخئ مے میں ذرا تلخئ دل بھی گھولیں
اور کچھ دیر یہاں بیٹھ کے پی لے رو لیں
ہر طرف ایک پر اسرار سی خاموشی ہے
اپنے سائے سے کوئی بات کریں کچھ بولیں
کوئی تو شخص ہو جی جان سے چاہیں جس کو
آہ یہ دل کی کسک، ہائے یہ آنکھوں کی جلن
نیند آ جائے اگر آج تو ہم بھی سو لیں
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment