Friday, 11 December 2015

ذہن پہ چھائی ہوئی غم کی گھٹا ہو جیسے

ذہن پہ چھائی ہوئی غم کی گھٹا ہو جیسے
درد میں ڈوبی ہوئی ساری فضا ہو جیسے
اب دلِ زار کسی طور بہلتا ہی نہیں
اس کا پیمانِ وفا ٹوٹ گیا ہو جیسے
پُرسشِ غم کی بھی رسم اٹھا دی اس نے
حالِ دل سن کے وہ شرمندہ ہوا ہو جیسے
اب تو ہر سانس کی آمد پہ گماں ہوتا ہے
زندگی ایک فسردہ سا دِیا ہو جیسے

کرشن ادیب

No comments:

Post a Comment