ذہن پہ چھائی ہوئی غم کی گھٹا ہو جیسے
درد میں ڈوبی ہوئی ساری فضا ہو جیسے
اب دلِ زار کسی طور بہلتا ہی نہیں
اس کا پیمانِ وفا ٹوٹ گیا ہو جیسے
پُرسشِ غم کی بھی رسم اٹھا دی اس نے
اب تو ہر سانس کی آمد پہ گماں ہوتا ہے
زندگی ایک فسردہ سا دِیا ہو جیسے
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment